کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا
دون کی لیتا تو ہے زاہد مگر میں کیا کہوںمتقی ساقی سے بڑھ کر کون مے خانے میں تھا
About this couplet
This is couplet 7 of 12 in “کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۷ / ۱۲