کلامِ شادردیف الف

ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جانا

۱

ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جاناجھکا کے سر کو ترا مسکرا کے رہ جانا

۲

دلا بہت نہ الجھ نامہ بر کو کیا میں نےسکھا دیا تھا کہ جانا تو جا کے رہ جانا

۳

شہید ناز کی بھولی نہیں مجھے صورتتری طرف کو نگاہیں پھرا کے رہ جانا

۴

وہ بزم غیر وہ ہر بار اضطراب مرابہ مصلحت وہ ترا مسکرا کے رہ جانا

۵

ٹھہر تو جا رخ جاناں پہ اے نگہ کچھ دیرسند نہیں فقط آنسو بہا کے رہ جانا

۶

نگاہ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھ کومرا وہ ہاتھ میں ساغر اٹھا کے رہ جانا

۷

جو پوچھیں حشر میں کچھ وہ تو ہاں دلا شاباشوہاں بھی تو یوں ہی باتیں بنا کے رہ جانا

۸

اگر تھا نشہ تو گرنا تھا پائے خم پہ مجھےمجھے پسند نہیں لڑکھڑا کے رہ جانا

۹

نہیں یہ حسن نہیں بخت کی ہے کوتاہیسوال وصل کا ہونٹوں تک آ کے رہ جانا

۱۰

کسی طرح تو یہ جسم کثیف پاک ہو شادگلی میں یار کی جانا تو جا کے رہ جانا

۲۵ / ۷۹