کلامِ شادردیف الف

کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا

۱

کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیراوہی شیدا تھا ترا میں نہیں شیدا تیرا

۲

دیدۂ شوق سے بے وجہ ہے پردا تیراکس نے دیکھا نہیں ان آنکھوں سے جلوا تیرا

۳

خود نزاکت پہ نہ کیوں بوجھ ہو پردا تیراکیا کسی آنکھ نے دیکھا نہیں جلوا تیرا

۴

مٹ گئی شورش طوفان حوادث اے موجاب وہی تو وہی بہتا ہوا دریا تیرا

۵

چین سے شہر خموشاں میں ہر اک سوتا ہےآسرا سب کو ہے اے وعدۂ فردا تیرا

۶

منزلت ایک کی بھی ہوگی نہ ویسی بہ خداحشر میں آئے گا جس شان سے رسوا تیرا

۷

زندگی کہتی ہے ارماں کوئی اب ہے نہ امیدکب تلک ساتھ کروں میں تن تنہا تیرا

۸

بے سبب میری خموشی نہیں اے شاہد حسندامن صبر سے ڈھنکتا نہیں پردا تیرا

۹

یوں حبابوں کا نہ دل توڑ خدارا اے موجانہیں قطروں کے تو ملنے سے ہے دریا تیرا

۱۰

وہی رنگت وہی خوشبو وہی نازک بدنیپھول نے نقش اتارا ہے سراپا تیرا

۱۱

تجھ سے ملنے کا جو ہے شوق تو در در نہ پھرےپانو توڑے ہوئے بیٹھا رہے شیدا تیرا

۱۲

اے گل آتی ہے خزاں باغ میں ٹھہرا نہ مجھےدیکھوں ان آنکھوں سے اترا ہوا چہرا تیرا

۱۳

کاش زاہد رخ روشن سے اٹھا لیں وہ نقابپھر تو کچھ رند کی رندی ہے نہ تقویٰ تیرا

۱۴

اپنے مے خانے سے گھبرا کے میں باہر آیاجب حرم سے کوئی نکلا نہ شناسا تیرا

۱۵

اس پہ کیا زور بھلا جس پہ ہو اس کا قابوچشم شوق اپنی سہی دل تو ہے شیدا تیرا

۱۶

جستجو شرط ہے مل جائے گا زینہ بھی ضرورسامنے ہے نظر شوق کے مکھڑا تیرا

۱۷

وسعت قدرت حق ہوگی نہ محدود کبھینہیں ملنے کا سرا زلف چلیپا تیرا

۱۸

بزم آخر ہے تقاضہ نہ کر اے محفل شوقاب کہاں صاف بھلا ساغر و صہبا تیرا

۱۹

شادؔ غزلیں نہیں آیات زبور ان کو سمجھلحن داؤد سے کچھ کم نہیں نغما تیرا

۲۰

اب جوانی کی امنگیں نہ امنگوں کی خوشیشادؔ کو ہے فقط اے موج سہارا تیرا

۲۶ / ۷۹