کلامِ شادردیف الف
ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والا
۱
ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والاکوئی باقی نہ رہا اگلے زمانے والا
۲
خواب تک میں بھی نظر آتا نہیں اے چشممیرے رو دینے پہ اشکوں کا بہانے والا
۳
آج کچھ شام سے چپ ہے دل محزوں کیا علمکیوں خفا ہے مرا راتوں کا جگانے والا
۴
بے خودی کیوں نہ ہو طاری کہ گیا سینے سےاشک خوں آٹھ پہر مجھ کو رلانے والا
۵
کب سمجھتا ہے کہ جینا بھی ہے آخر کوئی شےاپنی ہستی تری الفت میں مٹانے والا
۶
محتسب خوش ہے بہت توڑ کے خم ہائے شرابغم نہیں سر پہ سلامت ہے پلانے والا
۷
ہو گئے دیکھنے والے بھی جہاں سے نایاباب دکھائے کسے حیراں ہے دکھانے والا
۸
تیرے بیمار محبت کی یہ حالت پہنچیکہ ہٹایا گیا تکیہ بھی سرہانے والا
۹
سامنا اس بت کافر کا ہے دیکھیں کیا ہوخود ہے ششدر مرا ایمان بچانے والا
۱۰
شادؔ اک بھیڑ لگی رہتی تھی جس گھر میں وہاںآنے والا ہے نہ اب کوئی نہ جانے والا
۲۹ / ۷۹