کلامِ شادردیف الف

ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا

۱

ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کامکاں تو ہے پہ ٹھکانا نہیں مکینوں کا

۲

کھلا جو باغ میں غنچہ ستارہ دار کھلاگلوں نے نقش اتارا ہے مہ جبینوں کا

۳

ہے اپنی اپنی طبیعت پہ حسن شے موقوفمیں کیوں ہوں بندۂ بے دام ان حسینوں کا

۴

نظر کا کیا ہے بھروسہ نظر پہ ہیں پردےخیال عرش پہ جاتا ہے دوربینوں کا

۵

زمین شور ہو یا ہو زمین شعر اے دلنہیں ہے کوئی خریدار ان زمینوں کا

۶

بہشت دہر ہے اپنا وطن خدا کی قسمجدا جدا ہے ترانہ سبھی مہینوں کا

۷

کسی کو مان لیا دل نے جب تو مان لیانہ دخل دو یہی مسلک ہے خوش یقینوں کا

۸

جو ہو مصور فطرت مثال کیا اس کیگماں نہ چاہیے انساں پہ آبگینوں کا

۹

ذرا نکل کے تو دنیا سے دیکھ اے انساںپتا نہ دن کا نہ انداز ہے مہینوں کا

۱۰

سکھا دیا مجھے بچ بچ کے راستہ چلناخدا بھلا کرے اے شادؔ نکتہ چینوں کا

۲۸ / ۷۹