نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا
گھروندا یوں کھڑا تو کر لیا ہے آرزوؤں کاتماشا ہے جو وہ کہہ دیں کہ میں اک کھیل کھیلا تھا
About this couplet
This is couplet 2 of 8 in “نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۲ / ۸