کلامِ شادردیف الف
نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا
۱
نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھاخدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا
۲
گھروندا یوں کھڑا تو کر لیا ہے آرزوؤں کاتماشا ہے جو وہ کہہ دیں کہ میں اک کھیل کھیلا تھا
۳
بہت سستے چھٹے اے موت بازار محبت میںیہ سودا وہ ہے جس میں کیا کہیں کیا کیا جھمیلا تھا
۴
اگر تقدیر میں ہوتا تو اک دن پار بھی لگتایہ دریا جھیلنے کو یوں تو اے دل خوب جھیلا تھا
۵
ہمیشہ حسرت دیدار پہ دل نے قناعت کیبڑے در کا مجاور تھا بڑے مرشد کا چیلا تھا
۶
کہاں دل اور فسون عشق کی گھاتیں کہاں یا ربنہ پڑتا تھا بلاؤں میں ابھی کم بخت انیلا تھا
۷
جہاں چاہے لگے جس دل کو چاہے چور کر ڈالےزباں سے پھینک مارا بات تھی ناصح کہ ڈھیلا تھا
۸
تماشا گاہ دنیا میں بتاؤں کیا امیدوں کیتن تنہا تھا میں اے شادؔ اور ریلوں پہ ریلا تھا
۳۳ / ۷۹