نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا
جہاں چاہے لگے جس دل کو چاہے چور کر ڈالےزباں سے پھینک مارا بات تھی ناصح کہ ڈھیلا تھا
About this couplet
This is couplet 7 of 8 in “نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۷ / ۸