کلامِ شادردیف ے

ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے

۱

ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہےہماری روح بے بوجھی ہوئی اب تک پہیلی ہے

۲

بڑھاپا ہو تو ہو اس ربط میں کیوں کر خلل آئےمری یاس و تمنا بچپنے سے ساتھ کھیلی ہے

۳

اجل بھی ٹل گئی دیکھی گئی حالت نہ آنکھوں سےشب غم میں مصیبت سی مصیبت ہم نے جھیلی ہے

۴

عدم کا تھا سفر جب اور کچھ توشہ نہ ہاتھ آیابہت سی آرزو چلتے چلاتے ساتھ لے لی ہے

۵

ذرا دیکھو تو ان اترے ہوئے چہروں کو پھولوں کےمعاذ اللہ جھونکا ہے خزاں کا یا کہ سیلی ہے

۶

کبھی جمنے نہ دیتی بے خودی خاطر پہ نقش ان کابہ مشکل میں نے یہ تصویر اسی عیار سے لی ہے

۷

ہماری اور گلوں کی ایک ہے نشوونما لیکنوہاں مٹھی میں زر ہے اور یہاں خالی ہتھیلی ہے

۸

نہ پوچھو شادؔ ویرانی کو دل کی کیا بتاؤں میںتمنا جا چکی حسرت غریب اس میں اکیلی ہے

۵۴ / ۷۹