کلامِ شادردیف ے
یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے
یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہےپئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہے
نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہےہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے
تصور اس رخ صافی کا رکھ مد نظر ناداںلگائے منہ جو آئینے کو آئینہ اسی کا ہے
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومیجو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
کدر ہو یا کہ صافی سب کو پی کر مست ہو جائےیہ ہم رندوں کا پینا کچھ نہیں پینا اسی کا ہے
تماشا دیکھنا غیروں کے گھر کو پھونک کر کیساجو اپنی آگ میں جل جائے خود کینہ اسی کا ہے
فضائے دہر میں یہ سیر گہ جس نے بنا دی ہےتماشائی جہاں میں دیدۂ بینا اسی کا ہے
بسر ہو میکدے میں پنج شنبہ بیٹھ کر جس کاجو مے نوشی میں کر دے صبح آدینہ اسی کا ہے
امیدیں جب بڑھیں حد سے طلسمی سانپ ہیں ناصحجو توڑے یہ طلسم اے دوست گنجینہ اسی کا ہے
مبارک ہیں یہ سب راتیں جو پینے میں کٹیں رندوگزارے یوں جو شب ہفتے کی آدینہ اسی کا ہے
خدا لگتی کہے اے شادؔ جو اس پیر کے حق میںیقیں سمجھو دعا گو بھی یہ دیرینہ اسی کا ہے
کدورت سے دل اپنا صاف رکھو شادؔ پیری ہےکہ جس کو منہ دکھانا ہے یہ آئینہ اسی کا ہے
۵۳ / ۷۹