کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تک

دریائے عشق میں مجھے رکھنا نہ تھا قدمڈوبا تو خوب ڈوب گیا سر سے پاؤں تک

About this couplet

This is couplet 12 of 17 in “⁨کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تک⁩” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (⁨کلامِ شاد⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۱۷