کلامِ شادردیف ک

کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تک

۱

کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تکظالم ہیں آپ کی ہے ادا سر سے پاؤں تک

۲

ساکت ہیں بعد مرگ قویٰ سر سے پاؤں تکمہریں لگا گئی ہے قضا سر سے پاؤں تک

۳

گھیرے تھی تجھ کو برق ادا سر سے پاؤں تککیوں نخل طور جل نہ گیا سر سے پاؤں تک

۴

زنجیر بن گئی ہے قضا سر سے پاؤں تکگویا رگیں ہیں دام بلا سر سے پاؤں تک

۵

میں خود زبان شکر بنا سر سے پاؤں تکڈوبے نہ کیوں اثر میں دعا سر سے پاؤں تک

۶

منہ چاند اس پہ زلف رسا سر سے پاؤں تککیوں لوٹ پوٹ ہو نہ ادا سر سے پاؤں تک

۷

صدق و صفا سکھاتا ہے نظارہ باز کوآئینۂ جمال ترا سر سے پاؤں تک

۸

قاصد کہے گیا مری زردی رخ کا حالاس داستاں کو خوب رنگا سر سے پاؤں تک

۹

اے شمع تجھ سے صاف میں کہتا ہوں دل کا حالجلنا ہی تھا تو جل نہ گیا سر سے پاؤں تک

۱۰

پیری میں کانپنے لگے اعضائے جسم سبہشیار ہل گئی یہ بنا سر سے پاؤں تک

۱۱

شاید خزاں صبا کا فسانہ سنا گئیہر نخل باغ کانپ گیا سر سے پاؤں تک

۱۲

دریائے عشق میں مجھے رکھنا نہ تھا قدمڈوبا تو خوب ڈوب گیا سر سے پاؤں تک

۱۳

لی نخل طور کی نہ خبر تم نے اے کلیمتم دیکھتے رہے وہ جلا سر سے پاؤں تک

۱۴

آغاز ہی میں آپ نے کر دی زبان بندقصہ ہمارا سن نہ لیا سر سے پاؤں تک

۱۵

پھیلائیں یا نہ ہاتھ کو پھیلائیں شرم سےدست طلب ہیں تیرے گدا سر سے پاؤں تک

۱۶

تیرا کہاں جمال کہاں جلوہ گاہ طورموسیٰ نہ پھر نہ دیکھ لیا سر سے پاؤں تک

۱۷

اللہ شادؔ غیر کی یہ عیب جوئیاںتو خود پہ کر نگاہ ذرا سر سے پاؤں تک

۴۱ / ۷۹