یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم
تامنزل جاناں ساتھ رہا کم بخت تصور غیروں کاشوق اپنے قدم کھینچا ہی کیا پلٹا ہی کیے ہر گام سے ہم
About this couplet
This is couplet 4 of 10 in “یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم” in the section Ghazals — Radeef Meem, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۴ / ۱۰