کلامِ شادردیف م
یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم
یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہمٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہم
جب قیس پہاڑ اس سر سے ٹلے عید آئی تب آئی جان میں جانتا دیر عجب عالم میں رہے ہونٹوں کو ملائے جام سے ہم
تھا موت کا کھٹکا جاں فرسا صد شکر کہ نکلا وہ کانٹاگر ہو نہ قیامت کا دھڑکا اب تو ہیں بڑے آرام سے ہم
تامنزل جاناں ساتھ رہا کم بخت تصور غیروں کاشوق اپنے قدم کھینچا ہی کیا پلٹا ہی کیے ہر گام سے ہم
الفت نے انہیں کی حق کی طرف پھیرا مرے دل کو شکر خداتعمیر کریں مسجد کوئی کیونکر نہ بتوں کے نام سے ہم
اے ہم نفسو دم لینے دو بھولے ہوئے نغمے یاد آ لیںآئے ہیں چمن میں اڑ کے ابھی چھوٹے ہیں اسی دم دام سے ہم
باتوں میں گزرتے ہجر کے دن اے کاش کہ دونوں مل جاتےہم سے ہے دل ناکام خفا آزردہ دل ناکام سے ہم
یوں ان کے ادب یا خاطر سے ہر بات کو لے لیں اپنے سرجب دل ہے انہیں کے قابو میں پھر پاک ہیں ہر الزام سے ہم
وہ سمجھے کہ ہم نے مار لیا ہم سمجھے ملیں گے آخر وہملتے ہی نگہ کے دونوں خوش آغاز سے وہ انجام سے ہم
دنیا میں تخلص کوئی نہ تھا کیا نیل کا ٹیکا شادؔ ہی تھاتم وجہ نہ پوچھو کچھ اس کی چڑھ جاتے ہیں کیوں اس نام سے ہم
۴۵ / ۷۹