کلامِ شادردیف ض

ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض

۱

ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرضجب کچھ غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرض

۲

پھیلا کے ہاتھ مفت میں ہوں گے ذلیل ہممحروم تیرے در سے پھرے گی دعا غرض

۳

دنیا میں کچھ تو روح کو اس جسم سے ہے کامملتا ہے ورنہ کون کسی سے بلا غرض

۴

وصل و فراق و حسرت و امید سے کھلاہم راہ ہے ہر ایک بقا کے فنا غرض

۵

اک پھر کے دیکھنے میں گئی سیکڑوں کی جاںتیری ہر اک ادا میں بھری ہے جفا غرض

۶

دیکھا تو تھا یہی سبب حسرت و الممجبور ہو کے ترک کیا مدعا غرض

۷

کیونکر نہ روح و جسم سے ہو چند دن ملاپاس کو جدا غرض ہے تو اس کو جدا غرض

۸

الزام تاکہ سر پہ کسی طرح کا نہ ہواے شادؔ ڈھونڈتی ہے بہانے قضا غرض

۳۹ / ۷۹