کلامِ شادردیف ت
لپٹ وہ زلف کی جاں بخش اور وہ پیاری رات
۱
لپٹ وہ زلف کی جاں بخش اور وہ پیاری راتبسر ہوئی کبھی ایسی بھی ساری ساری رات
۲
کہاں وہ بستر دیبا حصیر کہنہ کہاںکجا امیروں کی راتیں کہاں ہماری رات
۳
فراق یاد میں گزرا ہے جیسے سارا دنیوں ہی کٹے گی بصد آہ و بے قراری رات
۴
اداس شام سے بیٹھے ہیں چارہ گر سارےضرور ہے ترے بیمار غم پہ بھاری رات
۵
سحر کے پہلے ہی اے شادؔ سو رہوں گا میںستا کے مجھ کو اٹھائے گی شرمساری رات
۳۸ / ۷۹