کلامِ شادمثنویات، مراثی و دیگر

جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں

۱

جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میںوہی بانی ہوا میرے غم و درد و اذیت کا

۲

اسی کے ہاتھ سے کیا کیا سہا سہنا ہے کیا کیا کچھالٰہی دو جہاں میں منہ ہو کالا اس مروت کا

۳

کریں انصاف کا دعویٰ اثر کچھ بھی نہ ظاہر ہومزا چکھا ہے ایسے دوستوں سے بھی محبت کا

۴

مٹائیں تاکہ اپنے ظلم کرنے کی ندامت کونکالیں ڈھونڈ کر ہر طرح سے پہلو شکایت کا

۵

حسد جی میں بھرا ہے لاگ ہے اک عمر سے دل میںکریں ظاہر اگر موقع ہے اظہار عداوت کا

۶

طمع میں کچھ نہ سمجھیں باپ اور بھائی کی حرمت کوعمل دیکھو تو یہ پھر کچھ کریں دعوا شرافت کا

۷

مری عمر دو روزہ بیکسی کے ساتھ کٹتی ہےنہ اپنوں سے نہ غیروں سے ملا ثمرہ ریاضت کا

۸

جسے دیکھا جسے پایا غرض کا اپنی بندہ تھاجہاں میں اب مزا باقی نہیں خالص محبت کا

۹

ہمارا کلبۂ احزاں ہے ہم ہیں یا کتابیں ہیںرہا باقی نہ کوئی ہم نشیں اب اپنی قسمت کا

۱۰

خدا آباد رکھے شادؔ میرے ان عزیزوں کومزا چکھوا دیا القرض مقراض المحبت کا

۷۹ / ۷۹