کلامِ شادرباعیات
چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں
۱
چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیںافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیںمکتب بدلا کتاب بدلی لیکنہم ایک وہی سبق پڑھتے جاتے ہیں
۷۸ / ۷۹
کلامِ شادرباعیات
چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیںافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیںمکتب بدلا کتاب بدلی لیکنہم ایک وہی سبق پڑھتے جاتے ہیں
۷۸ / ۷۹