شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے
شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےپیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرفپیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے” in the section Rubaiyat, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۱ / ۱