کلامِ شادرباعیات
شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے
۱
شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےپیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرفپیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے
۶۹ / ۷۹
کلامِ شادرباعیات
شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےپیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرفپیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے
۶۹ / ۷۹