چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں
چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیںافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیںمکتب بدلا کتاب بدلی لیکنہم ایک وہی سبق پڑھتے جاتے ہیں
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں” in the section Rubaiyat, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۱ / ۱