کلامِ ظفرردیف الف

نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا

۱

نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیاخدا آگاہ ہے دل کی خبرداری سے ہاتھ آیا

۲

نہ ہوں جن کے ٹھکانے ہوش وہ منزل کو کیا پہنچےکہ رستہ ہاتھ آیا جس کی ہشیاری سے ہاتھ آیا

۳

ہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتناکوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا

۴

اگرچہ مال دنیا ہاتھ بھی آیا حریصوں کےتو دیکھا ہم نے کس کس ذلت و خواری سے ہاتھ آیا

۵

نہ کر ظالم دل آزاری جو یہ دل منظور ہے لیناکسی کا دل جو ہاتھ آیا تو دل داری سے ہاتھ آیا

۶

اگرچہ خاکساری کیمیا کا سہل نسخہ ہےولیکن ہاتھ آیا جس کے دشواری سے ہاتھ آیا

۷

ہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحتنہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا

۸

کوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھاپر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا

۹

ظفرؔ جو دو جہاں میں گوہر مقصود تھا اپناجناب فخر دیں کی وہ مددگاری سے ہاتھ آیا

۱ / ۵۲