کلامِ ظفرردیف الف
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
۱
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہواادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا
۲
جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خطلکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا
۳
ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پرہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا
۴
بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتااگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا
۵
جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھےبس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا
۶
رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کیاس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا
۷
اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نےحصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا
۸
شب وصال میں بھی میری جان کو آرامعزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا
۹
نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھاوہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا
۲ / ۵۲