نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکاجسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
About this couplet
This is couplet 11 of 11 in “نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۱۱ / ۱۱