کلامِ ظفرردیف الف

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

۱

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہاغم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا

۲

دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہارہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا

۳

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنرپڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

۴

ترے رخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنۂ روز جزاتری زلف کے دھیان میں کون سی شب مرے سر پہ ہجوم بلا نہ رہا

۵

ہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضبکہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا

۶

کئی روز میں آج وہ مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نمامجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا

۷

ترے خنجر و تیغ کی آب رواں ہوئی جب کہ سبیل ستم زدگاںگئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنۂ آب بقا نہ رہا

۸

مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگرملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگ حنا نہ رہا

۹

اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوںکئے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا

۱۰

لگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہمولے ناز و کرشمہ کی تیغ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا

۱۱

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکاجسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

۸ / ۵۲