نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہارہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا
About this couplet
This is couplet 2 of 11 in “نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۲ / ۱۱