نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

ہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضبکہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا

About this couplet

This is couplet 5 of 11 in “⁨نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (⁨کلامِ ظفر⁩).

Read it in the poem

۵ / ۱۱