ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماباک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے

About this couplet

This is couplet 4 of 7 in “⁨ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (⁨کلامِ ظفر⁩).

Read it in the poem

۴ / ۷