کلامِ ظفرردیف ے
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
۱
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیےغرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے
۲
گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میںہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے
۳
جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کویہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے
۴
وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماباک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے
۵
تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حالجو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے
۶
طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتےیہ دردمند محبت تری دوا کے لیے
۷
جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدینتو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے
۴۹ / ۵۲