کلامِ ظفرردیف ے
یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہے
۱
یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہےواں ہاتھ میں آئینہ ہے، گل پیرہنی ہے
۲
ہاتھوں سے ہمیں عشق کے دن رات نہیں چینفریاد و فغاں دن کو ہے شب نعرہ زنی ہے
۳
ہشیار ہو غفلت سے تو غافل نہ ہو اے دلاپنی تو نظر میں یہ جگہ بے وطنی ہے
۴
کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں زباں سے کہ ذرا دیکھکیا جائے ہے جس جائے نہ کچھ دم زدنی ہے
۵
مژگاں پہ مرے لخت جگر ہی نہیں یارواس تار سے وہ رشتہ عقیق یمنی ہے
۶
لکھ اور غزل قافیے کو پھیر ظفرؔ تواب طبع کی دریا کی تری موج زنی ہے
۵۲ / ۵۲