کلامِ ظفرردیف ے
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
۱
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہےبولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے
۲
روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہےاس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے
۳
یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیںایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے
۴
جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنساوہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے
۵
ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیبخضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے
۶
مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاجعشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے
۷
دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگارپوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے
۸
خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گلہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے
۹
جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے
۵۱ / ۵۲