ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
ہم کو خطرہ تھا کہ لوگوں میں تھا چرچا اور کچھبات خط آنے سے تیرے پر ہماری رہ گئی
About this couplet
This is couplet 3 of 11 in “ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۳ / ۱۱