کلامِ ظفرردیف ی
ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئیآبرو بارے تری ابر بہاری رہ گئی
آتے آتے اس طرف ان کی سواری رہ گئیدل کی دل میں آرزوئے جاں نثاری رہ گئی
ہم کو خطرہ تھا کہ لوگوں میں تھا چرچا اور کچھبات خط آنے سے تیرے پر ہماری رہ گئی
ٹکڑے ٹکڑے ہو کے اڑ جائے گا سب سنگ مزاردل میں بعد از مرگ کچھ گر بے قراری رہ گئی
اتنا ملیے خاک میں جو خاک میں ڈھونڈے کوئیخاکساری خاک کی گر خاکساری رہ گئی
آؤ گر آنا ہے کیوں گن گن کے رکھتے ہو قدماور کوئی دم کی ہے یاں دم شماری رہ گئی
ہو گیا جس دن سے اپنے دل پر اس کو اختیاراختیار اپنا گیا بے اختیاری رہ گئی
جب قدم اس کافر بدکیش کی جانب بڑھےدور پہنچے سو قدم پرہیزگاری رہ گئی
کھینچتے ہی تیغ ادا کے دم ہوا اپنا ہواآہ دل میں آرزوئے زخم کاری رہ گئی
اور تو غم خوار سارے کر چکے غم خوارگیاب فقط ہے ایک غم کی غم گساری رہ گئی
شکوہ عیاری کا یاروں سے بجا ہے اے ظفرؔاس زمانے میں یہی ہے رسم یاری رہ گئی
۳۵ / ۵۲