جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں

اے ظفرؔ کیا پائے قاتل کے ہے بوسے کی ہوسیوں جو بسمل ہو کے سرگرم طپیدن آپ ہیں

About this couplet

This is couplet 16 of 16 in “⁨جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (⁨کلامِ ظفر⁩).

Read it in the poem

۱۶ / ۱۶