کلامِ ظفرردیف ن

جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں

۱

جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیںفلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں

۲

سیتے ہیں سوزن سے چاک سینہ کیا اے چارہ سازخار غم سینے میں اپنے مثل سوزن آپ ہیں

۳

پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھمارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں

۴

کھینچ کر آنکھوں میں اپنی سرمۂ دنبالہ دارکرتے پیدا سحر سے نرگس میں سوسن آپ ہیں

۵

دیکھ کر صحرا میں مجھ کو پہلے گھبرایا تھا قیسپھر جو پہچانا تو بولا حضرت من آپ ہیں

۶

جی دھڑکتا ہے کہیں تار رگ گل چبھ نہ جائےسیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں

۷

کیا مزا ہے تیغ قاتل میں کہ اکثر صید عشقآن کر اس پر رگڑتے اپنی گردن آپ ہیں

۸

مجھ سے تم کیا پوچھتے ہو کیسے ہیں ہم کیا کہیںجی ہی جانے ہے کہ جیسے مشفق من آپ ہیں

۹

پر غرور و پر تکبر پر جفا و پر ستمپر فریب و پر دغا پر مکر و پر فن آپ ہیں

۱۰

ظلم پیشہ ظلم شیوہ ظلم ران و ظلم دوستدشمن دل دشمن جاں دشمن تن آپ ہیں

۱۱

یکہ تاز و نیزہ باز و عربدہ جو تند خوتیغ زن دشنہ گزار و ناوک افگن آپ ہیں

۱۲

تسمہ کش طراز و غارت گر تاراج سازکافر یغمائی و قزاق رہزن آپ ہیں

۱۳

فتنہ جو بیداد گر سفاک و اظلم کینہ ورگرم جنگ و گرم قتل و گرم کشتن آپ ہیں

۱۴

بدمزاج و بددماغ و بدشعار و بدسلوکبد طریق و بدزباں بدعہد و بدظن آپ ہیں

۱۵

بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشنامیرے قاتل میرے حاسد میرے دشمن آپ ہیں

۱۶

اے ظفرؔ کیا پائے قاتل کے ہے بوسے کی ہوسیوں جو بسمل ہو کے سرگرم طپیدن آپ ہیں

۲۴ / ۵۲