کلامِ ذوقردیف الف

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

۱

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

۲

تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلارہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا

۳

دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافرتو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا

۴

جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضاحروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا

۵

ہے اور علم و ادب مکتب محبت میںکہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا

۶

ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہکہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا

۷

فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تکالٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

۸

کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگرنہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا

۹

کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔکہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا

۷ / ۶۶