کلامِ ذوقردیف ے

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے

۱

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سےجانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے

۲

ہم خوب ہیں واقف ترے انداز کمر سےیہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے

۳

پھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سےتو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے

۴

سرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارےاک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے

۵

وہ خلق سے پیش آتے ہیں جو فیض رساں ہیںہیں شاخ ثمر دار میں گل پہلے ثمر سے

۶

حاضر ہیں مرے جذبۂ وحشت کے جلو میںباندھے ہوئے کہسار بھی دامن کو کمر سے

۷

لبریز مئے صاف سے ہوں جام بلوریںزمزم سے ہے مطلب نہ صفا سے نہ حجر سے

۸

اشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم سوئے در یارمقصود رہ کعبہ ہے دریا کے سفر سے

۹

فریاد ستم کش ہے وہ شمشیر کشیدہجس کا نہ رکے وار فلک کی بھی سپر سے

۱۰

کھلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہکیا جانے کہ آ جائے ہے تو اس میں کدھر سے

۱۱

اف گرمیٔ وحشت کہ مری ٹھوکروں ہی میںپتھر ہیں پہاڑوں کے اڑے جاتے شرر سے

۱۲

کچھ رحمت باری سے نہیں دور کہ ساقیروئیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے

۱۳

میں کشتہ ہوں کس چشم سیہ مست کا یا ربٹپکے ہے جو مستی مری تربت کے شجر سے

۱۴

نالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتاکیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے

۱۵

اے ذوقؔ کسی ہمدم دیرینہ کا ملنابہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے

۳۲ / ۶۶