کلامِ ذوقردیف ے
اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے
۱
اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہےوہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے
۲
ناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہےکیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے
۳
پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیبسچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے
۴
اس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشکہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے
۵
مداح خال روئے بتاں ہوں مجھے خدابخشے تو کیا عجب کہ وہ نکتہ نواز ہے
۶
ڈرتا ہوں خنجر اس کا نہ بہہ جائے ہو کے آبمیرے گلے میں نالۂ آہن گداز ہے
۷
دروازہ مے کدے کا نہ کر بند محتسبظالم خدا سے ڈر کہ در توبہ باز ہے
۸
خانہ خرابیاں دل بیمار غم کی دیکھوہ ہی دوا خراب ہے جو خانہ ساز ہے
۹
شبنم کی جائے گل سے ٹپکتی ہیں شوخیاںگلشن میں کس کی خاک شہیدان ناز ہے
۱۰
آہ و فغاں نہ کر جو کھلے ذوقؔ دل کا حالہر نالہ اک کلید در گنج راز ہے
۳۳ / ۶۶