کلامِ ذوقردیف ی
آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
۱
آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائیرہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی
۲
مجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصےجب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی
۳
شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سےشکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی
۴
کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گادیتا نہیں مجھے تو اے بے خودی سنائی
۵
کہنے نہ پائے اس سے ساری حقیقت اک دنآدھی کبھی سنائی آدھی کبھی سنائی
۶
صورت دکھائے اپنی دیکھیں وہ کس طرح سےآواز بھی نہ ہم کو جس نے کبھی سنائی
۷
قیمت میں جنس دل کی مانگا جو ذوقؔ بوسہکیا کیا نہ اس نے ہم کو کھوٹی کھری سنائی
۳۱ / ۶۶