کلامِ ذوقردیف ے

قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے

۱

قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئےجو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے

۲

سیکڑوں کاسہ سر دہر میں مانند حبابکبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے

۳

ٹانکے کیا جیب کے پھر بعد رفو ٹوٹ گئےہو کے ناخن کبھی سینے میں فرو ٹوٹ گئے

۴

تو جو کہتا ہے کہ دے غیر کو بھی ساغر مےہاتھ کیا اس کے ہیں اے آئینہ رو ٹوٹ گئے

۵

کیونکے بن کشتیٔ مے کیجیے سیر دریامے کشو زیر بغل اب تو کدو ٹوٹ گئے

۶

دیکھ کر سرمے کی تحریر تری آنکھوں میںکافروں کے بھی ہیں زنار گلو ٹوٹ گئے

۷

صدمۂ غم سے ترے جوں گل بازی افسوسسارے اعضا مرے اے عربدہ جو ٹوٹ گئے

۸

سنگ غیرت سے کئی آئینے اے عہد شکندیکھ کر صاف ترا روئے نکو ٹوٹ گئے

۹

تیر دل سے وہ نکلتے ہیں کوئی جذبۂ شوقنکلے سوفار جو سینے سے گلو ٹوٹ گئے

۱۰

دل شکستہ ہی رہا بعد فنا بھی میں توکہ مری خاک سے بنتے ہی سبو ٹوٹ گئے

۱۱

شدت گریہ سے تھا رات یہ اشکوں کا ہجومچشم تر پھر مرے مژگاں کے ہیں مو ٹوٹ گئے

۱۲

گلشن عشق میں اللہ ہے کیا کثرت باربن ہوا کتنے ہی نخل لب جو ٹوٹ گئے

۱۳

کہہ بہ تبدیل قوافی غزل اک اور بھی ذوقؔدیکھیں بٹھلائے ہے کس طرح سے تو ٹوٹ گئے

۳۵ / ۶۶