کلامِ ذوقردیف ے
نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیے
نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیےکہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسماں کے لیے
ہزار لطف ہیں جو ہر ستم میں جاں کے لیےستم شریک ہوا کون آسماں کے لیے
مزے یہ دل کے لیے تھے نہ تھے زباں کے لیےسو ہم نے دل میں مزے سوزش نہاں کے لیے
فروغ عشق سے ہے روشنی جہاں کے لیےیہی چراغ ہے اس تیرہ خاکداں کے لیے
صبا جو آئے خس و خار گلستاں کے لیےقفس میں کیونکہ نہ پھڑکے دل آشیاں کے لیے
دم عروج ہے کیا فکر نردباں کے لیےکمند آہ تو ہے بام آسماں کے لیے
سدا تپش پہ تپش ہے دل تپاں کے لیےہمیشہ غم پہ ہے غم جان ناتواں کے لیے
وبال دوش ہے اس ناتواں کو سر لیکنلگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لیے
بیان درد و محبت جو ہو تو کیونکر ہوزبان دل کے لیے ہے نہ دل زباں کے لیے
مثال نے ہے مرے جب تلک کہ دم میں دمفغاں ہے میرے لیے اور میں فغاں کے لیے
بلند ہووے اگر کوئی میرا شعلۂ آہتو ایک اور ہو خورشید آسماں کے لیے
چلے ہیں دیر کو مدت میں خانقاہ سے ہمشکست توبہ لیے ارمغاں مغاں کے لیے
حجر کے چومنے ہی پر ہے حج کعبہ اگرتو بوسے ہم نے بھی اس سنگ آستاں کے لیے
نہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی کہ یہ شےعصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کے لیے
جو پاس مہر و محبت کہیں یہاں بکتاتو مول لیتے ہم اک اپنے مہرباں کے لیے
خلش سے عشق کی ہے خار پیرہن تن زارہمیشہ اس ترے مجنون ناتواں کے لیے
تپش سے دل کی یہ احوال ہے مرا گویابجائے مغز ہے سیماب استخواں کے لیے
مرے مزار پہ کس وجہ سے نہ برسے نورکہ جان دی ترے روئے عرق فشاں کے لیے
الٰہی کان میں کیا اس صنم نے پھونک دیاکہ ہاتھ دھرتے ہیں کانوں پہ سب اذاں کے لیے
نہیں ہے خانہ بدوشوں کو حاجت ساماںاثاثہ چاہیئے کیا خانۂ کماں کے لیے
نہ دل رہا نہ جگر دونوں جل کے خاک ہوئےرہا ہے سینے میں کیا چشم خوں فشاں کے لیے
نہ لوح گور پہ مستوں کی ہو نہ ہو تعویذجو ہو تو خشت خم مے کوئی نشاں کے لیے
اگر امید نہ ہمسایہ ہو تو خانۂ یاسبہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کے لیے
وہ مول لیتے ہیں جس دم کوئی نئی تلوارلگاتے پہلے مجھی پر ہیں امتحاں کے لیے
صریح چشم سخن گو تری کہے نہ کہےجواب صاف ہے پر طاقت و تواں کے لیے
اشارہ چشم کا تیری یکایک اے قاتلہوا بہانہ مری مرگ ناگہاں کے لیے
رہے ہے ہول کہ برہم نہ ہو مزاج کہیںبجا ہے ہول دل ان کے مزاج داں کے لیے
بنایا آدمی کو ذوقؔ ایک جزو ضعیفاور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لیے
۳۶ / ۶۶