کلامِ ذوقردیف ے

نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے

۱

نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سےنکالے پر ہے مثل ماہی تصویر پہلو سے

۲

نہ لے اے ناوک افگن دل کو میرے چیر پہلو سےکہ وہ تو جا چکا ساتھ آہ کے جوں تیر پہلو سے

۳

دل سیپارہ کو لے ٹانک تعویذوں میں ہیکل کےنہ سرکا یہ حمائل اے بت بے پیر پہلو سے

۴

وہ ہوں بے دست و پا بسمل رسائی جب نہ ہاتھ آئیکیا تا پائے قاتل از تہ شمشیر پہلو سے

۵

اسیر زلف دیوانے ہیں دیکھ اے پاسباں شب کودبا کر بیٹھ ان کے پاؤں کی زنجیر پہلو سے

۶

مصور لیلیٰ و مجنوں کی ناکامی پہ حیراں ہیںکبھی بیٹھا نہ مل کر پہلوئے تصویر پہلو سے

۷

یہ دل لب تشنہ تیغ یار کا ہے رات بھر کرتاصدائے العطش جوں نالۂ شب گیر پہلو سے

۸

عجب حسرت کا عالم تھا کہ مجنوں کہتا تھا پیہمچھٹے پہلو مرے محمل کا یا تقدیر پہلو سے

۹

نہ کہنا استخواں ان کو یہ عالم لاغری کا ہےکہ ہے دکھلا رہا میرا دل دلگیر پہلو سے

۱۰

خیال ابروئے جاناں نہیں اب بھولتا اک دمسپاہی ہے جدا کرتا نہیں شمشیر پہلو سے

۱۱

تمام اہل سخن بزم سخن میں ذوقؔ حیراں ہیںملا جو قافیہ تو نے کیا تحریر پہلو سے

۳۷ / ۶۶