کلامِ ذوقردیف ے
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
۱
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتےکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
۲
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتےمسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
۳
غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سےمگر زیارت دل کیوں کہ بے وضو کرتے
۴
عجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہمتیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے
۵
اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گےتو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے
۶
سمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصورکہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے
۷
یقیں ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کشاٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے
۸
نہ رہتی یوسف کنعاں کی گرمئ بازارمقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے
۹
چمن بھی دیکھتے گلزار آرزو کی بہارتمہاری باد بہاری میں آرزو کرتے
۱۰
سراغ عمر گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔتمام عمر گزر جائے جستجو کرتے
۳۸ / ۶۶