کلامِ ذوقردیف ے
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہےنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہےنہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے
لوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہےچیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے
رات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ نوازبند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے
قاصد عاشق سودا زدہ کیا لائے جوابجب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے
دیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحبہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے
تیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امیدرات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے
کشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جبکاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے
خاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میںتجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد صبا یاد رہے
گور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دوکوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے
تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیر طوبیٰخلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے
باز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھریاد عاشق کو نہ کیجے گا بھلا یاد رہے
داغ دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگاراچارہ گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے
زخم دل بولے مرے دل کے نمک خواروں سےلو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے
حضرت عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اوریاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے
گر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود بینیبھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے
عالم حسن خدائی ہے بتوں کی اے ذوقؔچل کے بت خانے میں بیٹھو کہ خدا یاد رہے
۳۹ / ۶۶