کلامِ ذوقردیف ے

مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگے

۱

مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگےکہہ دو ہم سے نہ کوئی دے کے نشانی مانگے

۲

اے صنم دیکھ کے ہر دم کی تری کم سخنیموت گھبرا کے نہ کیوں یہ خفقانی مانگے

۳

خاک سے تشنۂ دیدار کے سبزہ جو اٹھےتو زباں اپنی نکالے ہوئے پانی مانگے

۴

مار پیچاں تو بلا ہے گا مگر تو اے زلفہے وہ کافر کہ نہ کاٹا ترا پانی مانگے

۵

دہن یار ہو اور مانگے کسی سے دل کووہ جو مانگے تو بانداز نہانی مانگے

۶

دل مرا بوسہ بہ پیغام نہیں ہے ہمدمیار لیتا ہے تو لے اپنی زبانی مانگے

۷

جلوہ اس عالم معنی کا جو دیکھے اے ذوقؔلطف الفاظ نہ بے حسن معانی مانگے

۴۰ / ۶۶