کلامِ ذوقردیف ے
جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے
جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے
زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کامدل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے
ہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ورمنظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے
اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمنہر نے میں بھری آگ نیستاں کے لیے ہے
کچھ بخت سے میرے جو سوا ہے وہ سیاہیباقی ہے تو میری شب ہجراں کے لیے ہے
دیوانہ ہوں میں بھی وہ تماشا کہ مرا ذکرگویا سبق اطفال دبستاں کے لیے ہے
ہے بادہ کشوں کے لیے اک غیب سے تائیدزاہد جو دعا مانگتا باراں کے لیے ہے
چنگل میں ہے موذی کے دل اس چشم کے ہاتھوںگھیرا یہ غضب پنجۂ مژگاں کے لیے ہے
میں کس کی نگاہوں کا ہوں وحشی کہ مری خاکاک کحل بصر چشم غزالاں کے لیے ہے
دل بھی ہے بلا قابل مشق ستم و نازجو تیر ہے اس تودۂ طوفاں کے لیے ہے
نکلے کوئی کیا قید علائق سے کہ اے ذوقؔدر ہی نہیں اس خانۂ زنداں کے لیے ہے
۴۶ / ۶۶