کلامِ ذوقردیف ے

جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے

۱

جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے

۲

زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کامدل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے

۳

ہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ورمنظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے

۴

اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمنہر نے میں بھری آگ نیستاں کے لیے ہے

۵

کچھ بخت سے میرے جو سوا ہے وہ سیاہیباقی ہے تو میری شب ہجراں کے لیے ہے

۶

دیوانہ ہوں میں بھی وہ تماشا کہ مرا ذکرگویا سبق اطفال دبستاں کے لیے ہے

۷

ہے بادہ کشوں کے لیے اک غیب سے تائیدزاہد جو دعا مانگتا باراں کے لیے ہے

۸

چنگل میں ہے موذی کے دل اس چشم کے ہاتھوںگھیرا یہ غضب پنجۂ مژگاں کے لیے ہے

۹

میں کس کی نگاہوں کا ہوں وحشی کہ مری خاکاک کحل بصر چشم غزالاں کے لیے ہے

۱۰

دل بھی ہے بلا قابل مشق ستم و نازجو تیر ہے اس تودۂ طوفاں کے لیے ہے

۱۱

نکلے کوئی کیا قید علائق سے کہ اے ذوقؔدر ہی نہیں اس خانۂ زنداں کے لیے ہے

۴۶ / ۶۶