کلامِ ذوقردیف ے
اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے
۱
اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہےلیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے
۲
آنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیےکب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے
۳
ہے سر شہید عشق کا زیب سنان یارصد شکر بارے نخل وفا بارور تو ہے
۴
مانند شمع گریہ ہے کیا شغل طرفہ ترہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے
۵
ہے درد دل میں گر نہیں ہمدرد میرے پاسدل سوز کوئی گر نہیں سوز جگر تو ہے
۶
اے دل ہجوم درد و الم سے نہ تنگ ہوخانہ خراب خوش ہو کہ آباد گھر تو ہے
۷
تربت پہ دل جلوں کی نہیں گر چراغ و گلسینے میں سوزش دل و داغ جگر تو ہے
۸
غائب میں جو کہا سو کہا پھر بھی ہے یہ شکرخاموش ہو گیا وہ مجھے دیکھ کر تو ہے
۹
کشتی بحر غم ہے مرے حق میں تیغ یارکر دیتی ایک دم میں ادھر سے ادھر تو ہے
۱۰
وہ دل کہ جس میں سوز محبت نہ ہووے ذوقؔبہتر ہے سنگ اس سے کہ اس میں شرر تو ہے
۴۷ / ۶۶