کلامِ ذوقردیف ے

دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سے

۱

دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سےاپنا گھر تو سوجھتا ہے سیکڑوں فرسنگ سے

۲

ایک بھی نکلے نہ میری سی فغان دل خراشگرچہ خوں ٹپکے گلوئے مرغ خوش آہنگ سے

۳

چھپ کے بیٹھے گا کہاں تو ہم سے اے رنگیں نواہوگا تو جس رنگ میں مل جائیں گے اس رنگ سے

۴

بل بے باریکی کہ گویا ہر ترا تار سخنجنتری میں کھنچ کے نکلا ہے دہان تنگ سے

۵

اے تغافل کیش جلدی آ کہ تو واقف نہیںاس دل بیتاب و جان مضطرب کے ڈھنگ سے

۶

جوش گریہ سے رہی برسات برسوں پر کبھیاس کی تیغ تیز آلودہ نہ دیکھی زنگ سے

۷

میرے گریے کے اثر سے ہو گئے پتھر بھی آبجھڑتے ہیں جائے شرر پانی کے قطرے سنگ سے

۸

پہلے یہ نیت وضو کی ہے نماز عشق میںدل سے کہہ دیجے کہ دھووے ہاتھ نام و ننگ سے

۹

ذوقؔ زیبا ہے جو ہو ریش سفید شیخ پروسمہ آب بنگ سے مہندی مئے گل رنگ سے

۴۸ / ۶۶