کلامِ ذوقردیف ے

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے

۱

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھےہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے

۲

ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھےکانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے

۳

پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھےزنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے

۴

تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کوبخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے

۵

اے میرے یاسمن ترے دندان آبدارگلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے

۶

محراب کعبہ جب سے ہے تیرا خم کماںصید حرم سمجھتے ہیں ناوک فگن مجھے

۷

ہے تن میں ریشہ ہائے نئے خشک استخواںکیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف تن مجھے

۸

اے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم بہایاقوت دے یا دے کوئی لعل یمن مجھے

۹

ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگرفانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے

۱۰

اک سرزمین لالہ بہار و خزاں میں ہوںیکساں ہے داغ تازہ و داغ کہن مجھے

۱۱

خسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوںشیریں نہ ہووے خون سر کوہ کن مجھے

۱۲

رخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نےآتا نظر ہے دیدۂ عنقا دہن مجھے

۱۳

یہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاکاک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے

۱۴

کوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبرشب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے

۱۵

دکھلاتا آسماں سے ہے روئے زمیں کی سیراے رشک ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے

۱۶

رکھتا ہے چشم لطف پہ کس کس ادا کے ساتھدیتا ہے جام ساقی پیماں شکن مجھے

۱۷

ہے جذب دل درست تو چاہ فراق سےکھینچے گی تیری زلف شکن در شکن مجھے

۱۸

دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤاس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے

۱۹

جیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہادل سوجھتا ہے یوں تہ چاہ ذقن مجھے

۲۰

آ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھاآنکھیں دکھا رہا ہے غرال ختن مجھے

۲۱

آ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہواصحرائے دل ہوا ہے چمن در چمن مجھے

۲۲

یا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینہ نظردکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے

۲۳

آیا ہوں نور لے کے میں بزم سخن میں ذوقؔآنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہل سخن مجھے

۴۹ / ۶۶