کلامِ ذوقردیف ے

باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے

۱

باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہےدل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے

۲

کیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہےکہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے

۳

دل کہاں سیر تماشے پہ مرا لگتا ہےجی کے لگ جانے سے جینا بھی برا لگتا ہے

۴

جو حوادث سے زمانے کے گرا پھر نہ اٹھانخل آندھی کا کہیں اکھڑا ہوا لگتا ہے

۵

دل لگانے کا مزا ہے کہ گزک میں اس کےسب کبابوں سے نمک دل پہ سوا لگتا ہے

۶

نہ شب ہجر میں لگتی ہے زباں تالو سےاور نہ پہلو مرا بستر سے ذرا لگتا ہے

۷

ہائے محتاج ہوا مرہم زنگار کا توزخم دل زہر مجھے ہنسنا ترا لگتا ہے

۸

آب خنجر جو ہے زہراب وفاداری کوپانی شاید کہ سر ملک فنا لگتا ہے

۹

قد مجنوں کوئی پہلے سے چھڑی بید کی ہےجب ذرا جھکتا ہے قد پاؤں سے جا لگتا ہے

۱۰

زرد زاہد ہے تو کیا کھوٹ ابھی ہے دل میںذوقؔ اس زر کو کسوٹی پر کسا لگتا ہے

۵۲ / ۶۶